(ILPS)  کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ

انٹرنیشنل لیگ آف پیپلز سٹرگل (ILPS)  کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ

انٹرنیشنل لیگ آف پیپلز سٹرگل (International League of Peoples Struggle/ ILPS) فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں غیر مشروط یکجہتی کے ساتھ مستحکم کھڑی ہے۔ فلسطینی عوام صیہونی قبضے کے خاتمے اور آزاد اور جمہوری فلسطین میں رہنے کی تمنا پر پوری طرح متحد ہیں۔

صیہونی ریاست کے اقدامات فلسطینیوں کی نسل کشی سے قطعاً کم نہیں۔ غزہ پر ہونے والے تازہ ترین حملوں، خاص طور پر اندھا دھند فضائی حملوں میں 3000 سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں وہ  500 افراد بھی شامل ہیں جو ہسپتال میں علاج کرانے یا پناہ لینے کی غرض سے موجود تھے۔ غزہ کی جان بوجھ کر مکمل ناکہ بندی کی وجہ سے وہاں خوراک، پانی، ایندھن اور بجلی کی فراہمی مکمل طور سے منقطع ہے جس سے لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طبی نظام تباہی کے دہانے پر ہے جبکہ وہاں اس وقت  10,000 سے زائد  زخمی موجود ہیں جن کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے اہلکار لاشوں کو اٹھانے کے عمل کو جاری نہیں رکھ پا رہے جو علاقے میں لاوارث پڑی ہیں اور جس کی وجہ سے آبادی میں بیماریاں پھیلنے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ 

صیہونی افواج نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان زمینی حملے کے پیش نظر 2.3 ملین غزہ کے باشندے جنوب کی طرف نقل مکانی کرنا شروع کردیں جس کا مقصد دوبارہ غزہ کی پٹی پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اس وقت جب نہتے شہری نقل مکانی کر رہے ہونگے اسرائیلی فوجیں اس حکم کی تعمیل کرنے والے شہریوں کو بھی قتل کر دیں گے۔ غزہ اور مصر کے درمیان کی جنوبی سرحد پر اسرائیلی فوجوں نے فضائی حملے کیے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے پاس، اگر وہ چاہیں تو،  غزہ کی پٹی چھوڑنے کا اور اس کے علاوہ غزہ کے لیے امداد اندر آنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ امداد اس وقت مصر کی سرحد پر پھنسی ہوئی ہے۔ صہینیوں نے فضائی حملوں کے علاوہ سفید فاسفورس گیس جیسے بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا ہے۔ صیہونی فوجیوں اور مسلح آباد کاروں کی طرف سے جاری تشدد کے نتیجے میں گزشتہ 11 دنوں میں 70 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

گو کہ صیہونی حکومت نے 7 اکتوبر کو جنگ کا اعلان کیا لیکن ”نکبہ“ کے بعد سے لیکر اب تک پچھلے 75 سالوں میں فلسطینی عوام کے خلاف نسلی تعصب اور نسل کشی کی بنیادوں پر بنائے جانے والی پالیسیوں کی صورت میں یہ جنگ اب تک مستقل جاری ہے۔ آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ نہ صرف فلسطین بلکہ صیہونی مخالف پڑوسی ممالک پر جاری حملوں کا تسلسل ہے۔ 

صیہونی طاقتوں نے اس بار کھلم کھلا اعلان جنگ کیا ہے، لیکن یہ کھلم کھلا اعلان محض اس لیے ہوا کہ متحدہ فلسطینی مزاحمت نے امریکی حمایت یافتہ غاصب ریاست اور اس کی جدید ترین فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ 75 سال سے زائد عرصے سے فلسطینی عوام نے اپنی سرزمین پر قبضے کے خلاف اپنے پاس موجود ہر میسر طریقہ کو استعمال کیا، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بین الاقوامی نظام حکومت نے صیہونی قبضے کو عام ریت مانتے ہوئے قبول کیا ہوا ہے اور اس قبضہ کا اختتام نظر نہیں آرہا۔

عوام نے متحد ہو کر مسلح مزاحمت کا جرأت مندانہ راستہ اختیار کیا ہے۔ غزہ میں صیہونی مسلط کردہ سرحدی باڑ کو بہادری سے توڑا ہے اور فضائی، زمینی اور سمندری راستے سے مربوط حملے کیے ہیں جس نے دنیا بھر میں عوامی تحریکوں کو ایک سامراجی کٹھ پتلی ریاست کی فوجی طاقت کو للکارنے کا اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا ہے۔ 

فلسطینی مزاحمت ہماری مزاحمت کے لیے ایک مشعل راہ ہے! اس سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ امریکی سامراج کے بھاگتے ہوئے کتے کے خلاف یہ حملہ ایک ایسا قدم ہے جو مجموعی طور پر امریکی سامراج کو کمزدور کرے گا۔ عالمی سامراجی نظام کثیر الملکی انتشار کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، یوکرین میں امریکہ-نیٹو کی مسلط کردہ  جنگ سے لے کر ایشیا پیسیفک میں جنگ کی صف بندی تک، لاطینی امریکہ اور افریقہ میں قومی خود مختاری کے لیے عوامی تحریکوں اور فلپائن، ہندوستان، کردستان، مغربی پاپوا اور یقیناً فلسطین میں مسلح مزاحمتی تحریکوں کی مسلسل پیش قدمی اس کی مثالیں ہیں۔ فلسطینی مزاحمت ان تمام لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو قومی اور سماجی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمیں ان کی مزاحمت کی اس طرح حمایت کرنی چاہیے جیسے یہ ہماری اپنی مزاحمت ہو۔ 

ILPS (آئی ایل پی ایس) تنظیمی وابستگی سے بالا تر ہوکر تمام مزاحمتی گروہوں کی حمایت کرتا ہے – اب متحد ہونے کا وقت ہے!

ہم امریکی اور صیہونی افواج کی جانب سے فلسطین  اور دنیا بھر میں فلسطین کی حمایتی تنظیموں پر حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ فلسطین کے مسئلے پر ہم ایک غیر معمولی دور سے گزررہے ہیں جہاں فلسطین کے حق میں کھڑی عوامی اور جمہوری تنظیموں کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ساتھ آزادی اظہار پر بھی پابندی عائد کی جارہی ہے۔ جبکہ یورپ اور امریکہ جیسی نام نہاد لبرل”جمہوری“ ملکوں میں صیہونیت کی مکمل حمایت کی جارہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کی جدوجہد کا ہر طرح سے دفاع کیا جائے۔

آئی ایل پی ایس اپنے اراکین کو ہدایات دیتی ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی مذمت کے لیے دنیا بھر میں اسرائیلی، امریکی اور یورپی سفارت خانوں کے باہر مظاہرہ کریں۔ ہم اپنے ممبران سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی حکومتوں سے سرکاری مذمت کا مطالبہ کریں اور غزہ کی ناکہ بندی، حملے اور نسل کشی کے غیر مشروط خاتمے کے ساتھ ساتھ صیہونی ریاست کو دی جانے والی امریکی امداد سمیت تمام فوجی امداد بند کرنے کے لیے زور دیں۔

تمام ممبر تنظیموں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ فلسطین پر امریکی صیہونی قبضے اور مزاحمت کی تاریخ اور موجودہ صورتحال پر تعلیمی سیشن منعقد کریں۔ فلسطینی مزاحمت کی حمایت اور صیہونی مخالف اداروں پر حملوں اور پابندی کے خلاف دنیا بھر میں جاری مظاہروں کو برقرار رکھیں۔ ہمیں باور کرانا چاہیے کہ سرگرم ہونا اور مزاحمت کرنا یقیناً دہشت گردی نہیں ہے۔

دریا سے سمندر تک۔۔۔ آزاد فلسطین!

فلسطینی مزاحمت ہماری مزاحمت کے لیے ایک مشعل راہ ہے!

بین الاقوامی یکجہتی زندہ باد!

Leave A Reply

Subscribe
Notify of
guest

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments