گمشدہ افراد کے دن کے موقع پر آئی ایل پی ایس کا بیان 2025
جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے بین الاقوامی دن (30 اگست ، 2025) کے موقع پر انٹرنیشنل لیگ آف پیپلز اسٹرگل (آئی ایل پی ایس) اس منظم اور سفاکانہ عمل کے متاثرین کو یاد کرتے ہوئے ان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔ جبری گمشدگی کوئی علیحدہ جرم نہیں بلکہ ریاستی دہشت گردی کی ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے جس کا مقصد عوام اور عوامی تنظیموں کوخوفزدہ، خاموش اور ختم کرنا ہے ۔
یہ حقیقت ریاستی دہشت گردی کی سفاکی کی عکاسی کرتی ہے جو حکمران طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ جس کی بنیاد استحصال اور جبر ہے ۔ جبری گمشدگی طبقاتی جدوجہدکی ایک انتہائی شکل ہے۔ ریاستی قوتیں اشرافیہ طبقہ کے مفادات کے دفاع میں کام کرتے ہوئے محنت کش طبقے کی تنظیمی اور جمہوری مزاحمت کو کچلنے کے لیے جبر اور خاموش کرنے کی پالیسی کو اپناتی ہیں۔
تاریخی طور پر 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں فوجی آمریت کے زیر تسلط جبری گمشدگیاں بہت بڑے پیمانے پر ہوئیں۔ یہ آمر حکومتیں آپریشن کونڈور کا حصہ تھیں ، جو امریکہ کی قیادت میں کئی حکومتوں کے درمیان ان کے سیاسی مخالفین اور بائیں بازو کی تحریکوں کو ختم کرنے کے لیے ایک مربوط جابرانہ اقدام تھا۔
جبری گمشدگی کی یہ پالیسی 1950 اور 1960 کی دہائی میں خاص طور پر الجزائر کی جنگ کے دوران تیار کیے گئے فرانسیسی فوجی نظریے سے بہت زیادہ متاثر نظر آتی ہے۔ فرانسیسی افسران نے بغاوت مخالف حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پورے لاطینی امریکہ میں فوجی اہلکاروں کو تربیت دی ۔ ان ہتھکنڈوں کو بعد میں امریکہ نے اپناکر ان میں مزید اضافہ کیا، جس سے منظم جبر و استحصال پر مبنی نظریات تشکیل پائے۔ اس ریاستی انتظامی دہشت گردی کے دائرے میں جبری گمشدگیاں ، تشدد اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔ "انقلاب مخالف جنگ”یا "کمیونسٹ مخالف جنگ” کا تصور پورے براعظم میں فوجی دستورعمل میں مرکزی لائحہ عمل کی حیثیت اختیار کر گیا جس میں گرفتاری، تشدد ، قتل اور موت کے بعد بھی مخالفین کو گمشدہ رکھنے جیسی حکمت عملیاں شامل تھیں۔
1970 کی دہائی میں ارجنٹینا کی” ڈرٹی جنگ “سب سے بدنام مثالوں میں سے ایک ہے ، جہاں آمر حکومت نے ہزاروں افراد کو لاپتہ کیا ۔ چلی میں آگسٹو پنوشے کی آمریت نے بھی جبری گمشدگیوں کو ایک بنیادی جابرانہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ۔ ایل سلواڈور میں 1980 کی دہائی کی خانہ جنگی کے دوران سرکاری افواج اور ڈیتھ اسکواڈ نے ہزاروں گوریلا اور شہریوں کو لاپتہ کیا جن پر مزاحمت کی حمایت کرنے کا شبہ تھا ۔ پیرو میں 1980 کی دہائی میں 40,000 سے زیادہ افراد لاپتہ کرکے قتل کر دیئے گئے۔ یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے کہ جس میں پیرو کی کمیونسٹ پارٹی اور ٹوپاک امارو انقلابی تحریک جیسی تنظیموں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ آج بھی لواحقین کو انکے اپنے پیاروں کی لاشیں اور باقیات حوالے نہیں کی جاتیں جبکہ جبری گمشدگی کو پیرو میں قانونی حیثیت بھی دی جاچکی ہے۔
گوئٹے مالا میں مسلح تصادم کے دوران ،خاص طور پر 1980 کی دہائی میں ، جبری گمشدگیاں ناقابل تصور حد تک بڑھ گئیں تھیں۔ 1999 میں دریافت ہونے والی بدنام زمانہ "ملٹری ڈائری” یا "ڈیتھ ڈوزیئر "میں 1983 اور 1985 کے درمیان لاپتہ ہونے کے 183 واقعات بشمول تصاویر اور تشدد کی تفصیلات کے درج ہیں۔ لاطینی امریکہ میں گوئٹے مالا میں جبری گمشدگیوں کےسب سے زیادہ واقعات تاریخ کا حصہ ہیں جن میں متاثرین کی تعداد کوئی 45 ہزار سے بھی زیادہ ہے۔
اسکول آف دی امریکاز (ایس او اے) جوکہ اب ڈبلیو ایچ آئی این ایس ای سی (WHINSEC) ہے، نے اس نظریے کو فروغ کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ 1946 میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے ہزاروں لاطینی امریکی فوجیوں اور پولیس افسران کو ردِ بغاوت ، جاسوسی اور تشدد کے طریقوں کی تربیت دی۔ بعد ازاں ان تربیت یافتہ مسلح افراد میں سے بہت سے دیگر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت جبری گمشدگیوں میں ملوث پائے گئے۔ آج فرانسیسی اور امریکی نظریات جابرانہ ریاستوں کی فوجی حکمت عملیوں میں سرایت کر چکے ہیں ، جو پورے خطے میں امریکی جنوبی کمان کی کارروائیوں اور سلامتی کے منصوبوں کو تقویت دیتی ہے۔
ان جرائم کی حد حیرت انگیز ہے ۔ کولمبیا کے صدر نے حال ہی میں تسلیم کیا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں کے نتیجے میں گزشتہ 30 سالوں میں لاطینی امریکہ میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کو قتل کیا گیا ہے ۔انہیں حکمت عملیوں کو ہونڈروس میں بغاوتوں، نکاراگوا، کیوبا اور وینز ویلا میں بار بار کی جانے والی مداخلتوں میں بھی استعمال کیا گیا، جو نام نہاد لیما منصوبے کے تحت منظم کی گئی تھیں اورممکنہ عالمی جنگ کے لیے امریکی تیاریوں کا حصہ ہے۔
فلپائن میں 1970 کی دہائی میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد سے ہزاروں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں ۔ انڈونیشیا میں، 1965-66 کے قتل عام کے دوران کمیونسٹ پارٹی کے ارکان اور "خطرناک” سمجھے جانے والےدیگر افراد کو ختم کرنے کے لیے جبری گمشدگیوں کا سہارا لیا گیا۔ "ایئرز آف لیڈ” کے دوران مراکش کی حکومت نے بھی سیاسی مخالفین کی جبری گمشدگیوں کو حربے کے طور پر استعمال کیا۔ اور آج بھی فرانس کی میکرون حکومت کے ساتھ مل کر وہ جمہوری صحراویہ کے اراکین اور رہنماؤں کے خلاف ظلم و ستم ، قید و بند اور جبری گمشدگیاں کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔
امریکی سامراج کے زیراہتمام پاکستان میں فاشسٹ حکومتیں کئی دہائیوں سے فروغ پا رہی ہیں ۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے امریکہ اور سعودی عرب نے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مل کر ملک میں انتہا پسند جہادی نظام و ثقافت قائم کرنے کے لیے ہر ممکن راہ اپنائی۔ ہزاروں مدرسے قائم کیے گئے اور انہیں ہتھیار فراہم کئے گئے ، پرتشدد فرقہ واریت پروان چڑھی ، جس کے نتیجے میں بارہا خون ریزی ہوتی رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس عسکریت پسندی کا مقصد و حاصل حصول ملک میں ایرانی شیعہ اسلامی انقلاب کے اثر و رسوخ پر قابو پانا تھا ۔ اس کے بعد کی دہائیوں میں مسلسل کسانوں ، محنت کش طبقے، خود ارادیت ، قومی آزادی اور عوام کے حقوق کے لیے لڑنے والوں کی مزاحمت کی تمام شکلوں کو زبردستی دبا دیا جاتا رہا ہے ۔ آج تک ہزاروں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں ، خاص طور پر وہ مزاحمتی کردار جو بلوچستان میں حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔
ترکی میں پی کے کے (کردستان ورکرز پارٹی) کے ساتھ تنازعہ کے تناظر میں ترک سیکورٹی فورسز پر کردوں کی جبری گمشدگیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ دوسرے خطوں میں جبری گمشدگیاں فاشسٹ اور سامراجی جبر کے ہتھیار کے طور پر جاری ہیں ۔ فلسطین میں صیہونی افواج منظم طریقے سے فلسطینیوں کو اغوا اور لاپتہ کر لیتی ہیں اور خاندان والوں کو اپنے پیاروں کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ کینیا میں امریکی حمایت یافتہ روٹو حکومت کی مخالفت کرنے والے کارکنوں کو سیکورٹی فورسز کی جانب سے اغوا اور لاپتہ ہونے کی دشواری کا سامنا ہے ۔ بھارت میں مودی کی فاشسٹ حکومت قدیم آبادیوں اور انقلابی تحریکوں کے خلاف "بغاوت مخالف جنگ” کے نام پر گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کے سنگین جرائم میں ملوث ہےاور ساتھ ہی ساتھ شواہد کو مٹانے کے لیے متاثرین کی لاشیں تک جلا دی جاتی ہیں۔
یہ علیحدہ علیحدہ جرائم نہیں بلکہ سامراجی تسلط کے خلاف تمام مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں ۔ جبری گمشدگیاں فاشزم کی مثال ہیں۔ ایک پرتشدد طریقہ کار جسے سامراجی طاقتیں اور ان کی ہمنوا ریاستیں اپنی حاکمیت اور تسلط قائم و برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں ۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد سامراج ، فاشزم اور ہر قسم کے طبقاتی استحصال کے خلاف مزاحمت ہے ۔ ہم فوری طور پر تمام عوام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جرائم اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں ، انصاف کا مطالبہ کریں اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرائیں ۔ صرف اجتماعی مزاحمت ، سچائی کی تلاش اور یکجہتی کے ذریعے ہی ہم جبری گمشدگیوں کو ختم کر سکتے ہیں اور وقار ، انصاف اور حقیقی آزادی پر مبنی دنیا کی تعمیر و تکمیل کر سکتے ہیں ۔ ہمیں تیسری عالمی جنگ کے لیے امریکی سامراج کی تیاریوں کی موجودہ توسیع کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔
جبری گمشدہ افراد کی یاد میں!
اور جابرانہ سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی یاد میں!
عوامی مزاحمت زندہ باد!
ہماری گمشدگی — نہ تو بھولنا اور نہ ہی معاف کرنا!
گورے!اپنے گھر جا!!!
دستخط شدہ ، انٹرنیشنل لیگ آف پیپلز اسٹرگل

